ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی مالیت میں ایک ہفتے کے دوران 2800کھرب روپے کی کمی

09 نومبر ، 2025

کراچی ( جنگ نیوز) وال اسٹریٹ کی سب سے قیمتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مالیت ایک ہفتے کے دوران ایک ٹریلین ڈالر (2800کھرب روپے) سے زیادہ کم ہو گئی ہے، کیونکہ یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ مصنوعی ذہانت (AI) کا عروج اپنی رفتار کھو رہا ہے۔امریکا کی آٹھ سب سے بڑی اے آئی سے منسلک کمپنیوں کے حصص کی مجموعی مالیت پچھلے جمعہ سے 1.2 ٹریلین ڈالر(3360) کھرب روپےتک گر چکی ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ان کمپنیوں کی غیر معمولی بلند قدریں اب برقرار نہیں رہ سکتیں۔امریکی اسٹاک مارکیٹ اپریل میں اُس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "لبریشن ڈے" ٹیرف کے بعد سے اپنی بدترین ہفتہ وار کارکردگی دکھانے جا رہی ہے۔ مجموعی طور پر معیشت پر اعتماد تین سال سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے، کیونکہ عوام حکومت کے طویل ترین شٹ ڈاؤن اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بارے میں فکر مند ہیں۔نومبر میں صارفین کا اعتماد مزید گر کر 50.3 پر آ گیا، جو اکتوبر کے 53.6 سے کم ہے ۔چپ ساز کمپنی این ویڈیا (Nvidia) — جو گزشتہ ماہ دنیا کی پہلی پانچ کھرب ڈالر سے زیادہ مالیت رکھنے والی پبلک کمپنی بنی تھی — جمعہ کو 3 فیصد سے زائد گر گئی، جبکہ اوریکل (Oracle) کے حصص میں 4 فیصد کمی آئی۔مائیکروسافٹ کے حصص میں 0.5 فیصد کمی ہوئی، جس سے وہ پچھلے 14 سالوں میں مسلسل نقصان کے سب سے طویل سلسلے کی طرف بڑھ گئی۔صرف آٹھ دنوں میں، مائیکروسافٹ کے حصص کی قیمت میں 8.6 فیصد کمی آئی، جس سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 350 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ٹیسلا، ایمیزون، گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ، اور ایپل کے حصص میں بھی بھاری کمی دیکھی گئی۔