آئین کی دفعہ 248میں ترمیم کیلئے اضافہ پیش، فاروق نائیک کا اظہار حیرت

09 نومبر ، 2025

اسلام آباد (محمد صالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) سینیٹ کے قانون وانصاف کے لئے قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے اس امر پر حیرت ظاہر کی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نو ن کےدوارکان نے آئین کی دفعہ 248میں ترمیم کے لئے اضافہ پیش کیا ہے کہ صدر مملکت کی طرح وزیراعظم کوبھی عمر بھر کے لئے فوجداری کارروائی کے خلاف تحفظ فراہم کردیا جائے۔ فاروق نائیک جو سینیٹ کے چیئرمین رہ چکے ہیں اور سرکردہ ماہر آئین قانون ہیں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں جوآئینی ترمیم کا جائزہ لے رہی تھی۔ جنگ / دی نیوز سے ہفتے کی شب گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر نائیک نے کہا کہ اگر پاکستان مسلم لیگ نون کے ارکان (وزیراعلیٰ پنجاب کی سینئر مشیر سینیٹر انوشہ رحمٰن احمد خان اوراقلیتی رکن طاہر خلیل سندھو) کی ترمیم شامل کرلی جائے اور اسے سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی منظوری حاصل ہوجائےتو سابق وزیر اعظم عمران خان کو فوری طور پر جیل سے رہا کرنا پڑے گا اور ان کے خلاف دائر مقدما ت ختم کرنا پڑیں گے ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن نہیں کہ آئین میں ترمیم کے ذریعے عمل داری کسی خاص وقت کے لئے ہو انہوں نے بتایا کہ کمیٹیاں ترمیم کے اسی فیصد حصے کا جائزہ مکمل کرچکی ہیں تاہم آئین کی دفعہ 248میں ترمیم پر بحث نہیں ہو سکی۔ انہوں نے بتایا کہ آج (اتوار) سینیٹ کا اجلاس شروع ہونے تک جائزہ مکمل کرلیا جائے گا جس کے بعد وہ رپورٹ ایوان میں پیش کردینگے اور سینیٹ سے آئینی ترامیم کل پیر سے منظور ہونا شروع ہوجائے گی ممکن ہے کہ یہ کام ایک دن میں مکمل کرلیا جائے گا۔ ایک استفسار کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ترمیم موجودہ شکل میں منظور ہونے سے صدر آصف علی زرداری کو تمام تر فوجداری کارروائیوں سے استثنیٰ مل جائے گا۔ ان کے پیشرو سابق صدر عارف علوی کے خلاف بھی کوئی فوجداری کارروائی نہیں ہو سکے گی ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر عارف علوی کے خلاف کوئی سنگین مقدمہ موجود نہیں جس سے محفوظ ر ہنے کے لئے انہیں اس ترمیم کا سہارا لینا پڑے۔ ایک ضمنی سوال کے جواب میں سینیٹر فاروق نائیک نے بتایا کہ ماضی میں رہے قائم مقام صدر کو اس استثنی سے فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ فاروق نائیک نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ نون کی قیادت کو پتہ چلے گا تو وہ اپنے ارکان کو ترمیم میں ترامیم سے باز رہنے کی ہدایت جاری کردینگے۔