فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کو صدر کی طرح عدالتی استثنیٰ حاصل ہوگا، 27 ویں ترمیم کا مسودہ

09 نومبر ، 2025

اسلام آباد ( طاہر خلیل،نمائندہ جنگ ) 27 ویں مجوزہ آئینی ترمیم کے اہم نکات سامنے آئے ہیں جسکے مطابق فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات رہیگا،27نومبر کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (CJSC) کا عہدہ ختم، جبکہ مارشل آف ائیرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ متعارف کرانے کی تجویز ہے، فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا عہدہ پارلیمنٹ کے مواخذے سے ختم کیا جاسکےگا،آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہونگے، صدر مملکت کیخلاف تاحیات کیس بنے گا نہ گرفتار کیا جاسکے گا،وزیراعظم کو فوجداری مقدمات میں استثنیٰ حاصل ہوگا، فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کو صدر کی طرح عدالتی استثنیٰ حاصل ہوگا، سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لیکر وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کیے جائینگے، از خود نوٹس کا اختیار ختم کرنے سمیت آئین کے 48آرٹیکلز میں ترامیم کی تجویز کی گئی ہے۔ تفصیلات کے 27 ویں مجوزہ آئینی ترمیم کے اہم نکات مطابق آرٹیکل 243 میں شامل کی گئی نئی شقوں کے تحت، ایسے افسران جو فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں پر ترقی پائیں گے، وہ تمام عمر وردی میں رہیں گے۔ انہیں صرف انہی وجوہات اور طریقہ کار کے تحت عہدے سے ہٹایا جا سکے گا جو آئین کے آرٹیکل 47 میں صدرِ مملکت کی برطرفی کے لیے بیان کیے گئے ہیں۔آرٹیکل 47 کے مطابق، کسی بھی افسر کو صرف جسمانی یا ذہنی نااہلی یا بدسلوکی کی بنیاد پر ہٹایا جا سکتا ہے، اور وہ بھی اس وقت جب پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت باضابطہ تحقیقات کے بعد مواخذے کی قرارداد منظور کرے۔بل میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آرٹیکل 248 کی دفعات — جو صدرِ مملکت کو قانونی کارروائی سے تحفظ فراہم کرتی ہیں — ان افسران پر بھی ’’مطابقاً‘‘ (mutatis mutandis) لاگو ہوں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اپنے تاحیات عہدے پر فائز رہیں گے، ان کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ، گرفتاری یا قید کا عمل شروع نہیں کیا جا سکے گا۔علاوہ ازیں، شق 45 کے ذریعے ترمیم میں آرٹیکل 248 کو دوبارہ تحریر کیا گیا ہے، جس کے تحت صدرِ مملکت کو زندگی بھر فوجداری کارروائی سے استثنا دے دیا گیا ہے۔ اب کوئی عدالت صدر کے خلاف ’’زندگی بھر‘‘ کسی مقدمے کی کارروائی شروع یا جاری نہیں رکھ سکے گی اور نہ ہی ان کی گرفتاری یا قید کا کوئی حکم جاری کیا جا سکے گا۔گورنرز کو ان کے عہدے کی مدت کے دوران یہ استثنا حاصل رہے گا۔اس شق میں واضح طور پر یہ جملہ شامل کیا گیا ہے: ’’کسی بھی عدالت کے فیصلے کے باوجود‘‘ — جس کا مطلب یہ ہے کہ عدالتوں کی وہ سابقہ تشریحات، جنہوں نے یہ استثنا صرف صدر کی مدتِ عہدہ تک محدود کیا تھا، اب کالعدم ہو جائیں گی۔ 27 ویں مجوزہ آئینی ترمیم کے اہم نکات مطابق آرمی چیف کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ دینے کی تجویز ہے جبکہ سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لیکر وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کیے جائیں گے۔ ایوان میں پیش مسودے کے مطابق 27 آئینی ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 42 اور 59 میں ترمیم کی جا رہی ہے۔ اسکے علاوہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی کلاز 5 میں لفظ سپریم کو فیڈرل کانسٹیٹیوشنل میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔27 ویں ترمیم کے تحت ‘وفاقی آئینی عدالت’ کے قیام کی تجویز ہے، وفاقی آئینی عدالت، آئین کی تشریح اور آئینی تنازعات کے فیصلے کرے گی۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لے کر وفاقی آئینی عدالت کو دیے جائیں گے، آئین کا آرٹیکل 184 ختم کر دیا جائے گا، ازخود نوٹس کا اختیار ختم ہوگا۔ آئینی مقدمات اب سپریم کورٹ نہیں، وفاقی آئینی عدالت سنے گی، سپریم کورٹ صرف اپیلوں اور عمومی مقدمات کی عدالت رہے گی۔مجوہ مسودے کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس اور چاروں صوبوں سے برابر نمائندگی ہو گی، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی مدت 3 سال مقرر ہو گی، چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کی حیثیت محدود ہو جائے گی۔ مسودہ میں سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی تجویز کی گئی ہے، آئینی عدالت کے فیصلے ملک کی تمام عدالتوں پر لازم ہونگے۔27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی تجویز کی گئی ہے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا عہدہ دینے کی تجویز ہے۔27 ویں ترمیم کے ذریعے ججوں کی تقرری کا طریقہ کار بھی بدلا جائے گا، جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دونوں شامل ہونگے، تقرری میں وزیرِاعظم اور صدر کو کلیدی کردار حاصل ہوگا، پارلیمنٹ کو آئینی عدالت کے ججوں کی تعداد طے کرنے کا اختیار ملے گا۔ آئین کے آرٹیکل 42، 63 اے، 175 تا 191 میں ترمیم کی تجویز ہے جسکے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات میں نمایاں کمی ہو گی، ماہرین نے ترمیم کو عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات میں بڑا تغیر قرار دیا، اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ 27 ویں ترمیم پر شدید تحفظات ظاہر کیے، سیاسی حلقوں میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر بحث تیز ہو گی۔سینیٹ میں پیش ہونے والے 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے کی تفصیلات کےمطابق آئین پاکستان کے 48 آرٹیکلز میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔27ویں آئینی ترمیم میں بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی تجویز بھی دی گئی ہے، صوبائی کابینہ کے حجم میں اضافے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، صوبائی کابینہ کے مشیران کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ایک وقت میں پورے سینیٹ کے انتخابات کرانے کے حوالے سے ترامیم بھی تجویز کی گئی ہیں، تاہم قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں صوبوں کے شیئر ختم کا ایجنڈا شامل نہیں کیا گیا تھااور قومی اسمبلی کی مشترکہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 248 میں مزید ترمیم پیش کی گئی۔جسکے تحت صدر کے بعد وزیر اعظم کو بھی فوجداری مقدمات میں استثنیٰ کا ختیار دینے کی تجویر ہے یہ ترمیم حکومتی ارکان سینیٹر انوشہ رحمٰن اور سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے پیش کی ۔