27 ویں آئینی ترمیم، وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں بل پیش کردیا

09 نومبر ، 2025

اسلام آباد (ناصر چشتی، نمائندہ خصوصی ) سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کردیا گیا ،بل وفاقی وزیرقانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ترمیمی مسودے پر تمام جماعتوں سے مشاورت جاری رہے گی، سو فیصد اتفاقِ رائے تک فیصلہ نہیں ہوگا، بل پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا جا رہا ہے تاکہ بل کی تمام شقوں پر تفصیلی اور بامعنی بحث ہو سکے، سینیٹر ایمل ولی خان نے 27ویں آئینی ترمیم پر پی ٹی آئی کو کمیٹی میں شامل ہونے کی درخواست کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر تمام سیاسی جماعتوں سے تجاویز آئیں تو بہتر ہوگا، سینیٹر کامران مرتضیٰ نے 27ویں آئینی ترمیم کو عوام کے حقوق کا ڈاکے قرار دیتے ہوئے کہاآئین عوام کیلئے ہوتا ہے کسی فرد واحد کیلئے نہیں، سینیٹر علامہ ناصر عباس نے کہا یہ ملکی آئین اور جمہوریت پر ڈاکہ ہے، شیری رحمان نےکہا 18ویں آئینی ترمیم کو ریورس نہیں کیا جارہا بلکہ اس کا تحفظ کیا جارہا ہے، دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا مشترکہ اجلاس کا پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے بائیکاٹ کیا۔ دوسری جانب جے یو آئی نےمشترکہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی اجلاس سے واک آئوٹ کر دیا،عالیہ کامران نے کہا کہ ہمیں 27ویں آئینی ترمیم پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔جبکہ پی ٹی آئی نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔ہفتہ کے روز سینیٹ اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے بل کی تفصیلات بتاتے ہوے کہا کہ بل پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا جا رہا ہے تاکہ بل کی تمام شقوں پر تفصیلی اور بامعنی بحث ہو سکے، حکومت کو اس عمل میں کوئی عجلت نہیں، مقصد صرف جامع مشاورت اور اتفاقِ رائے سے قانون سازی کو آگے بڑھانا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل مشترکہ کمیٹی میں بل پر سیر حاصل گفتگو ہو۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے مزید بتایا کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ بھرپور مشاورت کے بعد ہی اس آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کیا گیا ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی میں بھی آئینی عدالت کے قیام پر اتفاقِ رائے ہوا تھا اور اب اسی کو عملی شکل دینے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترمیم کے تحت ججز کے تبادلے سے متعلق معاملات کو جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جا رہا ہے تاکہ شفاف، غیرجانبدار اور موثر نظام تشکیل دیا جا سکے۔ ماضی میں اس ضمن میں بعض اعتراضات اٹھائے گئے کہ وزیراعظم یا صدر کے کردار سے شفافیت متاثر ہوتی ہے، اسلئے اب یہ ذمہ داری عدالتی کمیشن کو دی جا رہی ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آرٹیکل 243 کے تحت فوجی تقرریوں سے متعلق ماضی کے تجربات نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ اسٹرٹیجک اور دفاعی معاملات پر خطے کے ممالک میں ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے ہمیں واضح سبق دیا ہے کہ اب جنگ کی ہیئت اور حکمتِ عملی مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس ترمیم کے ذریعے بعض فوجی اور اعزازی عہدوں کو آئین میں واضح طور پر شامل کرنے کی تجویز ہے۔ ان میں فیلڈ مارشل، ائیر چیف اور نیول چیف جیسے اعلی اعزازی عہدے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزازات محض فوجی رینک نہیں بلکہ قومی خدمات کا اعتراف ہیں۔ ان عہدوں کا تعلق عزت و احترام سے ہے، ان کی کمانڈ اور ذمہ داریاں قانون کے مطابق ریگولیٹ ہونگی اور اس حوالے سے ضروری ترامیم پارلیمان کے سامنے رکھی جائیں گی۔ پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کا ڈرافٹ ابھی ملا ہے، پڑھے بغیر اس پر بحث نہیں کی جا سکتی، قائد حزب اختلاف کی سیٹ خالی ہے، پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی بنا دیں۔ اپوزیشن کو دیوار سے نہ لگایا جائے،1973 کے آئین کی روح کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے 26ویں آئینی ترمیم پر مشترکہ فیصلہ کیا مگر ایوان میں مخالفت کی گئی انہوں نے کہاکہ میرا یہ وعدہ ہے کہ ایسا کوئی قانون نہیں آئے گا جس سے جمہوریت کمزور اور صوبے کا اختیار کم ہوگا اور عوام کی بے توقیری ہو، ہم اگر پختونخوا نام مانگ رہے ہیں تو ہمیں وہ نام دے دیں خیبر ایک ضلع کا نام ہے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ جے یو آئی کے ساتھ کیے گئے وعدے اور اعتماد کو توڑا گیا ہے، اعتماد کی فضا ختم، سیاسی دھوکہ دہی کے اثرات واضح ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آئین میں جو ترامیم کی جارہی ہیں اس سے پیپلز پارٹی جو آئین کی خالق جماعت اپنے آپ کو کہتی ہے وہ نہیں رہے گی۔ حکومت آئین کا حلیہ بگاڑ رہی ہے یہ شخصیات کیلئے نہیں بلکہ عوام کیلئے ہوتی ہیں۔ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاکہ آئین کو متنازع بنانے والا عمل آئینی حرمت کیلئے سنگین جرم ہے، شفافیت اور عوامی شمولیت کے بغیر قانون کی حرمت پامال ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر جیل میں قیدی کے کچھ حقوق ہوتے ہیں عدلیہ اپنا وقار کھو چکی ہے۔ یہ پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہے آج یہ ایوان بے توقیر ہوئی ہے اس کو بچائیں اور اس ملک کو بچائیں۔وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں مگر وہ لوگ بات چیت کے دوران تو اپنی غلطیوں سمیت بہت کچھ مان لیتے ہیں لیکن اسے تحریری معاہدے کی شکل نہیں دیتے، ان کا کہنا تھاکہ تحریک انصاف کے دوست آئین میں ترمیم کیلئے اپنی حمایت کو ایک سزا یافتہ شخص سے ملاقات کیلئے مشروط بنا رہے ہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ جواب میں سینٹر فلک ناز نے وفاقی وزیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ بھی لندن میں بیٹھے ایک سزا یافتہ مفرور سے بات چیت کیا کرتے تھے ہر ترقی اور تعیناتی بھی انہیں کی مشاورت سے ہوا کرتی تھی تب آئین، قانون اور اخلاقیات کہاں تھے۔پی ٹی آئی کے سینیٹر ذیشان خانزادہ، سینٹر محمد ہمایوں خان اور مسلم لیگ کے سینٹر ناصر محمود نے بھی اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کیا جسکے بعد چیئرمین سینٹ نے اجلاس آج اتوار دوپہر تین بجے تک ملتوی کر دیا۔