پشین(پ ر)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پشین ضلع کانفرنس پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی زیر صدارت تاج لالا اسٹیڈیم پشین میں منعقد ہوئی، جس میں دو ہزار سے زائد مندوبین اور مبصرین نے شرکت کی۔ کانفرنس کا آغاز مولوی فضل کریم اخوند نے تلاوتِ کلام پاک سے کیا اور نصیب اللہ کلیوال نے تنظیمی اور سیاسی رپورٹ پیش کی۔ کانفرنس کی نظارت کے فرائض پارٹی کے صوبائی سیکریٹری اوّل فقیر خوشحال کاسی نے سر انجام دیے۔ پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، مرکزی سیکریٹری ڈاکٹر بائزید روشان، مرکزی سیکریٹری اعظم مسیزئی اور صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے خطاب کیا۔الیکشن کمیشن نے ضلعی ایگزیکٹو کی تجاویز پیش کیں جس کے تحت محمود ریاض ضلعی سیکریٹری، سردار فیصل ترین سینئر معاون اور نو ایگزیکٹو پر مشتمل کابینہ کا انتخاب اتفاقِ رائے سے عمل میں لایا گیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خوشحال خان کاکڑ نے خان شہید کی عظیم قربانیوں، قومی و وطنی خدمات اور پشتون افغان قومی سیاسی تحریک میں تاریخی کردار ادا کرنے اور قومی تحریک کے مبارز رہنما میرا خان مندوخیل کی قومی و سیاسی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ خان شہید کی تمام زندگی قید و بند کی صعوبتوں اور قومی جدوجہد کی قربانیوں میں گزری۔ انہوں نے ایک قومی رہبر، ادیب اور صحافی کی حیثیت سے بڑے کارنامے سر انجام دیے۔وہ 20 سال کی عمر میں شاہ امان اللہ خان کے استقبال کے لیے چمن گئے، جہاں انہوں نے دیکھا کہ پشتون ملازمین انگریز سپاہیوں کے بوٹوں کی صفائی پر مامور تھے۔ اس واقعے نے خان شہید پر واضح کیا کہ ان کا وطن محکوم ہے اور پشتون افغان ملت انگریز کی غلام بنی ہوئی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے آزادی کی جدوجہد کا آغاز کیا اور آزادی حاصل کرنے میں خان شہید، باچا خان اور کاکاجی صنوبر حسین جیسے عظیم رہنماؤں کی قیادت میں پشتون قومی سیاسی تحریک کے لاکھوں کارکنوں نے قربانیاں دیں۔ انگریز استعمار کے بعد پاکستان کا سیاسی اقتدار پنجاب کے استعماری گروہ کو مل گیا جس نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اس ملک میں آئین و قانون کی جمہوری حکمرانی کا راستہ روک رکھا ہے۔ پنجاب کی بالادستی کے باعث ملک دولخت ہوا اور باقی ماندہ پاکستان میں قوموں کی جمہوری تحریکوں نے جمہوری فیڈریشن کا قیام، قوموں کی برابری اور وسائل پر حقِ ملکیت کے قیام کے لیے ناقابلِ بیان قربانیاں دیں۔جس کے نتیجے میں اٹھارویں آئینی ترمیم ممکن ہوئی جس میں صوبوں کی خودمختاری، وسائل کی منصفانہ تقسیم، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور آئین کے تحت جمہوری حکومتوں کے امکانات پیدا ہوئے، لیکن مختصر مدت میں 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے ذریعے 78 سالوں میں قوموں کو حاصل کردہ تمام بنیادی حقوق و اختیارات کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں پشتون قومی تحریک اور ملک کی دیگر قوموں کی جمہوری تحریکوں کا اب مطالبہ یہ ہے کہ 1940 میں قائد اعظم کی منظور کردہ قرارداد کے تحت پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی قوموں کے خودمختار اور مقتدر وفاقی وحدتوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔
تہران /واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے...
اسلام آبا پاکستان اکنامک سروے 2025-26نے ملک کی معیشت، سماجی حالات اور ماحولیاتی صورتحال کے بارے میں ایک...
اسلام آبادرواں مالی سال کے قومی اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق حکومت زیادہ تر اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں...
کراچی بھارت کا سرحدوں پر 74نئے لینڈ پورٹس بنانے کا اعلان، چین کی سرحد پر تین اور پاکستان کی سرحد پر چھ نئے...
کراچی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں مبینہ خفیہ امریکی کارروائی سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ...
اسلام آبا آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے صنعتی کیپٹو پاور پلانٹس کو فراہم کی جانے والی...
لندن اداکارہ ماہرہ خان کی کنگ چارلس سے ملاقات، پاکستان میں ذہنی صحت کے کام پر تبادلہ خیال، برٹش ایشین ٹرسٹ کی...
اسلام آباد پاکستان نے توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی اسپاٹ مارکیٹ سے مزید دو ایل این جی کارگوز حاصل...