دہشت گردی کےخلاف جنگ ، 15سال میں پختونخوا کو700ارب ملنے کا انکشاف

03 دسمبر ، 2025

پشاور( ارشد عزیز ملک)خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کے باوجود صوبہ کا وفاق پر مالی انحصار کم نہ ہوسکا اورصوبہ بدستور کمزور سروس ڈیلیوری، دہشت گردی اور امن و امان کے چیلنجز کا شکار ہے، وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں 15 سالوں میں 700ارب روپے کی ادائیگی کی گئی ہے تاہم صوبہ میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکا ہے نہ ہی پولیس اور سکیورٹی اداروں کے انفراسٹرکچر اور استعداد کار میں اضافہ ہوا ہے تاہم صوبائی حکومت نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے صوبائی محاصل میں 100 فیصد سے زیادہ اضافی کیاگیا ہے، دہشت گردی کیخلاف ایک فیصد فنڈز دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے نہیں بلکہ نقصانات کے ازالے کیلئے مل رہے ہیں ۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق خیبر پختونخوا ملک کے ان صوبوں میں شامل ہے جس کا سب سے زیادہ انحصار وفاقی محاصل پر ہے، سال2025-26میں صوبہ کی کل آمدن کا تخمینہ 2119ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں 1990ارب روپے یعنی 94فیصد رقم براہ راست وفاق فراہم کریگا اور صوبہ کے اپنے مخصولات صرف129ارب روپے رہ جاتے ہیں جوصوبہ کی کل آمدن کا صرف6فیصد ہیں دستاویز کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے علاوہ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں وفاقی قابل تقسیم محاصل کا ایک فیصد حصہ بھی ملتا ہے، صوبائی حکومت صرف اس ایک مد میں 2010سے 2025تک تقریباً 700ارب روپے حاصل کرچکی ہےتاہم دہشت گردی کے خاتمہ اور قیام امن کیلئے اس بھاری معاونت کے باوجود صوبہ شدید بدامنی کا شکار ہے اور پولیسنگ، امن عامہ اور جنگ زدہ علاقوں کی بحالی میں خاطر خواہ بہتری سامنے آ سکی ہے اور نہ ہی اس رقم کا کوئی جامع آڈٹ کیا گیا ہے کہ آخر یہ فنڈز کیسے اور کہاں خرچ ہوئے، سرکاری دستاویز کے مطابق رواں مالی سال میں وفاق کی جانب سے دیگر مدات میں بھی خطیر رقم ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جن میں 57ارب روپےکی براہ راست منتقلی کیساتھ ساتھ تیل و گیس رائلٹی کی مد میں58ارب، پن بجلی خالص منافع اور بقایا جات کی مد میں106ارب اور ضم شدہ اضلاع کی بحالی و انضمام کےلئے35ارب روپے شامل ہیں، ان تمام آمدنیوں کے باعث خیبر پختونخوا کا فی کس بجٹ 52 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے جو پنجاب کے 41 ہزار 800 روپے سے زیادہ ہے تاہم اس کے باوجود بنیادی شعبوں میں کارکردگی اطمینان بخش نہیں، شرح خواندگی 55 فیصد، معمول کی ویکسی نیشن 71 فیصد، صاف پانی کی دستیابی 82 فیصد اور ہسپتالوں میں بستر کی فراہمی اعشاریہ 5 فی ہزار آبادی تک محدود ہے،۔اس سلسلے میں خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے جنگ کو بتایا کہ صوبائی محاصل پچھلے سال تقریبا 64ارب روپے تھے اور اس کو بڑھا کر رواں سال 129 ارب روپے تک بڑھایا گیا ہے جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے کل آمدن کا 10 فیصد محاصل کا ٹارگٹ رکھا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے ایک فیصد نہیں مل رہے بلکہ دہشت گردی کے نقصانات کے ازالے کیلئے یہ ایک فیصد مل رہے ہیں۔