پارلیمنٹ ہاؤس جتھوں کے نرغے میں،لٹھ بردار افرادکا قبضہ

03 دسمبر ، 2025

اسلام آباد (محمد صالح ظافر/ خصوصی تجزیہ نگار) پارلیمنٹ ہاؤس تحریک انصاف اور مولوی طاہرالقادری کے جتھوں کے نرغے میں تھی، شاہراہ دستور لڑسکے، لٹھ بردار مسلح افراد کا قبضہ تھا، جن کے نعروں اور دھمکیوں کی گونج پارلیمنٹ ہاؤس کے اجلاس میں صاف سنائی دے رہی تھی۔ ایسے میں قومی اسمبلی کے مسند نشین اسپیکر سردار ایاز صادق کو کاغذ کے ٹکڑے پر تحریر موصول ہوئی کہ پانچ منٹ میں حکومتی طرف دار ارکان پارلیمنٹ ہاؤس کی عقبی گزرگاہ سے باہر نکل جائیں، ورنہ حملہ آور جتھے پارلیمنٹ کے ایوان میں داخل ہوکر قتل و غارت گری مچا دیں گے۔ ایسے میں اسپیکر نے قائد ایوان وزیراعظم شہباز شریف سے مختصر مشاورت کی اور فیصلہ کیا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس جاری رہے گا اور کوئی رکن اسے چھوڑ کر ایوان سے نہیں جائے گا۔ سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسے اجمالا بیان کیا، منگل کو سردار ایاز صادق نے جنگ/ دی نیوز کو بتایا کہ2014ء کی یخ بستہ شام کوا نہیں دھمکی کا رقعہ دیکھ کر اس قدر پسینہ آیا کہ وہ اپنی نشست پر اس میں شرابور ہوگئے۔ زندگی کے مشکل ترین پارلیمانی فیصلے میں طے کیا گیا کہ پارلیمانی لان میں پہنچے بلوائیوں کی دھمکی کو نہ صرف حقارت سے نظر انداز کردیا جائے بلکہ کسی بھی صورت حال سے نبرد آزما رہنے کے لیے تیار رہا جائے۔ اسپیکر اور حکمران قیادت نے اپنے اعصاب کو قابو میں رکھتے ہوئے2014ء کے دھرنے کو اپنے انجام تک پہنچنے دیا۔ اسپیکر نے تحریک انصاف کے ارکان کی دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے ایوان کو مطلع کیا کہ وہ2014ء میں دھمکی کو خاک پایا میں دفن کرچکے ہیں جب حزب اختلاف کی پشت پر ہر طرح کی قوت موجود تھی، آج وہ خود کو سنبھال نہیں پارہے، ان سے کسی معرکہ آرائی کی توقع نہیں۔ تاہم واضح رہنا چاہیے کہ دھمکی سے وہ کوئی مقصد حاصل نہیں کرسکتے۔ پیار اور شائستگی سے وہ سب کچھ دینے کے لیے تیار ہوں۔ سردار ایاز صادق کی اس چتاؤنی کے بعد تحریک انصاف کے ارکان کی اکثریت مصالحانہ لہجے پر اتر آئی، یہی وجہ ہے کہ منگل کو خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اٹک کا پل بھی عبور نہیں کرسکا اور تمام تر اعلانات کے باوجود اس کے قدم آگے بڑھنے سے رکے رہے۔