لاہور(آصف محمود بٹ ) نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کراچی میں سول سروسز اکیڈمی لاہور کے53ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے پروبیشنرز کے لیے منعقدہ تعارفی نشست میں ڈائریکٹر جنرل نیپا سید سیف الرحمٰن نے نوجوان افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی بنیاد اخلاقیات، ہمدردی اور مسلسل علمی استعداد پر استوار کریں۔ انہوں نے کہا کہ سول سروس اختیار کا نہیں، اعتماد اور خدمت کا منصب ہے، جس کا اصل امتیاز عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ڈی جی نیپا نے گفتگو کے دوران کہا کہ وہ سرکاری خدمت کو اپنی خوش نصیبی سمجھتے ہیں اور اگر انہیں دوبارہ انتخاب کا موقع ملے تو وہ پھر اسی میدان کا انتخاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری نظام میں تکنیکی کمزوریاں اور انتظامی رکاوٹیں کسی حد تک قابلِ برداشت ہوتی ہیں، تاہم اخلاقی انحراف کسی افسر کو ایسی دوری پر لے جاتا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ سروس میں آپ کو آخرکار اخلاق ہی سہارا دیتے ہیں۔انہوں نے پاکستان کے سماجی تنوع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افسران کو معاشرے کے ہر طبقے سے واسطہ پڑتا ہے، اس لیے انہیں عوام کے ساتھ انصاف، انکساری اور ذمہ داری کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ اس موقع پر انہوں نے ایک پاکستانی پی ایچ ڈی اسکالر کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ایک آخری موقع دینے سے اس کی پوری زندگی کا رخ بدل گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ایک چھوٹی سی توجہ بعض اوقات ایک خاندان کے اعتماد کو ازسرِنو استوار کر دیتی ہے۔سید سیف الرحمٰن نے نوجوان افسران کو مسلسل علمی ریاضت کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مطالعہ، تحریر اور مشاہدہ افسر کی عملی صلاحیتوں کا بنیادی حصہ ہیں۔ انہوں نے اپنے ذاتی نوٹس اور تحریری رجسٹر دکھاتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی روزانہ لکھتے اور پڑھتے ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کی صورتحال، علاقائی سیاست اور معاشرتی و ثقافتی رجحانات سے باخبر رہنے کو ہر افسر کے لیے ضروری قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ گفتگو اور تحریر کی شائستگی افسر کی شخصیت اور اعتماد کو مضبوط بناتی ہے۔ “سوچ کر لکھیں، ترتیب سے بولیں، خوبصورت اور بامقصد اظہار ہر دروازہ کھول دیتا ہے۔”ڈی جی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن نے اس بات پر زور دیا کہ سروس میں اصل ساکھ مستقل مزاجی اور ذمہ داری سے بنتی ہے۔ اگر آپ کے افسر کو یقین ہو کہ دیا گیا کام وقت پر اور یاد دہانی کے بغیر مکمل ہوگا تو یہ اعتماد آپ کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔سید سیف الرحمن نے نوجوان افسران کو نصیحت کی کہ وہ اپنی شخصیت میں سادگی، وقار، انکساری اور اعتماد کو یکجا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ زندگی میں خود پر شک کے مراحل آئیں گے، مگر مسلسل خود کو بہتر بنانا ایک افسر کی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے افسران کو عالمی اسکالرشپس، تربیتی مواقع اور نئے تجربات کے حصول کے لیے ہمیشہ سرگرم رہنے کی تلقین کی، تاہم اپنی اصل شناخت برقرار رکھنے کی بھی تاکید کی۔ڈی جی نیپا نے کہا کہ سول سروس پاکستان کی خدمت کا ایک بہترین موقع ہے اور اصل تعلیم CSS کے بعد شروع ہوتی ہے۔ “آپ نے آخری دن تک سیکھتے رہنا ہے۔ ذہنی، سماجی اور ثقافتی طور پر مضبوط افسر ہی چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ افسر ہر معاملے میں الجھنے کے بجائے ترجیحات طے کریں اور غیرضروری شور و خلفشار سے خود کو دور رکھیں تاکہ کارکردگی متاثر نہ ہو۔نشست کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن ہوا، جس میں پروبیشنرز نے ڈی جی نیپا کی رہنمائی کو نہایت مفید قرار دیا اور ان کا اور ڈائریکٹر سی ٹی پی سید شبیر اکبر زیدی کا شکریہ ادا کیا۔ نوجوان افسران نے اس نشست کو اپنی تربیت کا اہم اور مثبت حصہ قرار دیا۔
بیجنگبیجنگ کی وزارتِ تجارت اور واشنگٹن کے وزیرِ خزانہ نے اتوار کو بتایا کہ چین اور امریکہ کے اعلیٰ حکام آنے...
لندن پاکستانی منی ایچر آرٹسٹ ماہین الہی کے فن پاروں کی نمائش ری امیجننڈ رئیلٹیز کے عنوان سے سینٹرل لندن میں...
اسلام آ باد وفاقی وزیرداخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی سے بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور شمع عبید...
اسلام آبادوزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی ورثہ و ثقافت حذیفہ رحمان نے قوم کو معرکہ حق پر مبارکباد دیتے...
اسلام آباد وفاقی حکومت نےگزشتہ دو ہفتوں میں مسلسل تین بار اضافہ کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اورلیوی...
لاہور سول سروسز اکیڈمی لاہور میں ’’پاکستان۔بنگلہ دیش نالج کوریڈور‘‘ کے تحت ایک جامع اور تفصیلی مکالمے کا...
کراچی اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے کہا ہے کہ فوج کو “فوری طور پر مزید اہلکار” درکار ہیں، توجہ سیاسی...
کراچی ہائر ایجوکیشن کمیشن نے غیر مجاز کیمپسز سے تعلیم حاصل کرنے والے تقریباً 36 ہزار 931 طلبہ کی اسناد سے متعلق...